Ask Dr. Umer
متعدی امراض

پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی: علامات، پھیلاؤ اور بچاؤ

یہ مضمون ایپ میں کھولیں

مختصر جواب

ہیپاٹائٹس بی اور سی وہ وائرس ہیں جو جگر پر حملہ کرتے ہیں۔ جگر ہمارے جسم کی "کیمیکل فیکٹری" ہے — یہ خون صاف کرتا ہے، توانائی ذخیرہ کرتا ہے اور خوراک ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب یہ وائرس سالوں تک جگر میں رہتے ہیں تو وہ خاموشی سے جگر کو سخت کر دیتے ہیں (سروسس) اور جگر کا کینسر بھی ہو سکتا ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ زیادہ تر مریض سالوں تک بالکل تندرست محسوس کرتے ہیں، اسی لیے یہ بیماری خاموشی سے ایک شخص سے دوسرے میں پھیلتی رہتی ہے۔

بات کو آسانی سے سمجھیں

ہیپاٹائٹس بی اور سی وہ وائرس ہیں جو جگر پر حملہ کرتے ہیں۔ جگر ہمارے جسم کی "کیمیکل فیکٹری" ہے — یہ خون صاف کرتا ہے، توانائی ذخیرہ کرتا ہے اور خوراک ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب یہ وائرس سالوں تک جگر میں رہتے ہیں تو وہ خاموشی سے جگر کو سخت کر دیتے ہیں (سروسس) اور جگر کا کینسر بھی ہو سکتا ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ زیادہ تر مریض سالوں تک بالکل تندرست محسوس کرتے ہیں، اسی لیے یہ بیماری خاموشی سے ایک شخص سے دوسرے میں پھیلتی رہتی ہے۔

عام وجوہات

  • 1پاکستان میں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
    عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق 2024 میں پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 29 لاکھ افراد دائمی ہیپاٹائٹس کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے — ان میں تقریباً 90 لاکھ ہیپاٹائٹس سی اور 38 لاکھ ہیپاٹائٹس بی کے مریض تھے۔
  • 2دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے سب سے زیادہ کیسز پاکستان میں ہیں۔
    WHO کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں غیر محفوظ انجیکشن سے ہونے والے نئے ہیپاٹائٹس سی کیسز میں سے 44 فیصد پاکستان کے ہیں۔
  • 3ہر سال 48 ہزار سے زیادہ پاکستانی ہیپاٹائٹس سے مرتے ہیں
    یعنی تقریباً ہر 11 منٹ میں ایک موت — لیکن صرف 10 میں سے 3 مریضوں کو علاج ملتا ہے۔
  • 4ہیپاٹائٹس سی کا علاج ممکن ہے۔
    جدید ادویات (ڈائریکٹ ایکٹنگ اینٹی وائرلز) سے 95 فیصد سے زیادہ مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں، عام طور پر 8 سے 12 ہفتوں کے کورس سے، اور پرانی ادویات کے مقابلے میں ان کے مضر اثرات بھی بہت کم ہیں۔
  • 5ہیپاٹائٹس بی سے ویکسین کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔
    WHO کی ہدایت ہے کہ ہر نوزائیدہ بچے کو پیدائش کے 24 گھنٹوں کے اندر ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین لگائی جائے، کیونکہ پیدائش کے وقت لگنے والا انفیکشن 90 سے 95 فیصد بچوں میں دائمی بیماری بن جاتا ہے (CDC)۔ اگر متاثرہ ماں کے بچے کو پیدائش کے 12 گھنٹوں کے اندر ویکسین (اور دستیاب ہو تو امیونوگلوبولن) دی جائے تو بچے کے محفوظ رہنے کے امکانات تقریباً 95 فیصد ہوتے ہیں۔
  • 6پاکستان میں پھیلاؤ کیسے ہوتا ہے:
    غیر محفوظ انجیکشن اور غیر اسکرین شدہ خون کی منتقلی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ دیگر راستے: جراثیم سے پاک نہ کی گئی سوئیاں، استرے، دانتوں اور آپریشن کے آلات، ٹیٹو یا ناک کان چھیدنا، اور پیدائش کے وقت ماں سے بچے کو منتقلی۔ یہ بیماری کھانے پینے کی چیزیں بانٹنے، گلے ملنے یا ہاتھ ملانے سے نہیں پھیلتی۔
  • 7نائی اور دانتوں کے ڈاکٹر کا خطرہ حقیقی ہے۔
    نائی کی دکان پر وہی استرا دوبارہ استعمال ہونا اور دانتوں کے کلینک میں جراثیم کش نہ کیے گئے آلات پاکستان میں انفیکشن پھیلانے کے ثابت شدہ ذرائع ہیں — ہمیشہ نیا بلیڈ کھلوائیں اور آلات کی صفائی کا پوچھیں۔

فوراً کب توجہ دینی ہے

ان علامات میں فوراً مدد لیں

آنکھوں یا جلد کا پیلا پڑنا (یرقان)، گہرا پیشاب، بہت ہلکا پاخانہ

ایمرجنسی؟ ابھی کال کریںPakistan 1122 · USA/Canada 911 · UK 999 · Europe 112 · Australia 000

روزمرہ میں کیا کریں

  • ✓ہر خاندانی فرد کی ایک بار اسکریننگ کروائیں۔ ایک سادہ خون کا ٹیسٹ (ہیپاٹائٹس بی کے لیے HBsAg، ہیپاٹائٹس سی کے لیے anti-HCV) آپ کی حالت بتا دیتا ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں — اسکریننگ علاج کی طرف پہلا قدم ہے۔
  • ✓ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین کا مکمل کورس کروائیں ہر اس فرد کے لیے جو ابھی تک محفوظ نہیں۔ یہ محفوظ اور مؤثر ہے اور پاکستان کے معمول کے حفاظتی ٹیکوں (پینٹاویلنٹ) کا حصہ ہے۔
  • ✓محفوظ انجیکشن پر اصرار کریں۔ ہر بار نئی، سیل شدہ سرنج کا مطالبہ کریں۔ ایک سوئی، ایک مریض، ایک بار۔
  • ✓اسکرین شدہ خون پر اصرار کریں۔ منتقلی کے لیے خون صرف اسکرین شدہ ذرائع سے لیا جائے۔
  • ✓نائی، دانتوں کے ڈاکٹر، ٹیٹو: اپنے سامنے نیا بلیڈ کھلوائیں؛ دانتوں کے ڈاکٹر سے آلات کی جراثیم کشی کے بارے میں پوچھیں۔
  • ✓حاملہ خواتین: ہیپاٹائٹس بی کا ٹیسٹ کروائیں تاکہ پیدائش کے وقت بچے کو محفوظ رکھا جا سکے۔
  • ✓اگر ٹیسٹ مثبت آئے: ڈاکٹر سے رجوع کریں — ہیپاٹائٹس سی مکمل ٹھیک ہو سکتا ہے اور ہیپاٹائٹس بی کو طبی نگرانی میں قابو رکھا جا سکتا ہے۔ اسے چھپائیں نہیں؛ خاندان کے دیگر افراد کو اسکریننگ اور ویکسینیشن کروائیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا ہیپاٹائٹس بی یا سی کھانے پینے سے پھیلتا ہے؟

نہیں۔ یہ خون اور جسمانی رطوبتوں سے پھیلتے ہیں — کھانے پینے کی چیزیں بانٹنے، ہاتھ ملانے، گلے ملنے یا برتن بانٹنے سے نہیں۔

Kya hepatitis C ka ilaj hai?

جی ہاں۔ جدید علاج سے 95 فیصد سے زیادہ مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں — بشرطیکہ وہ ٹیسٹ کروائیں اور علاج لیں۔ اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں۔

کیا ہیپاٹائٹس بی والی ماں کا بچہ صحت مند پیدا ہو سکتا ہے؟

جی ہاں — اگر بچے کو پیدائش کے 24 گھنٹوں کے اندر ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین (اور دستیاب ہو تو امیونوگلوبولن) دی جائے تو بچہ بہت حد تک محفوظ رہتا ہے۔

اگر بچپن میں ویکسین لگی تھی تو کیا دوبارہ لگوانی چاہیے؟

پاکستان کے حفاظتی ٹیکوں میں ہیپاٹائٹس بی شامل ہے، لیکن بہت سے بالغ افراد کو کبھی مکمل ویکسینیشن نہیں ملی۔ اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں کہ آپ کو ویکسین کی ضرورت ہے یا نہیں۔

کیا ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ مہنگا ہے؟

زیادہ تر لیبارٹریوں میں اسکریننگ ٹیسٹ سستا ہے اور بعض سرکاری پروگرام بھی مہیا کرتے ہیں۔ اصل مہنگا کام ٹیسٹ نہ کروانا اور بعد میں جگر خراب ہونا ہے۔

کیا ہیپاٹائٹس بی اور سی مکمل ٹھیک ہو سکتے ہیں؟

ہیپاٹائٹس سی جدید ادویات سے مکمل ٹھیک ہو سکتا ہے۔ ہیپاٹائٹس بی کا ابھی کوئی آسان "مکمل علاج" نہیں، لیکن طویل مدتی طبی نگرانی میں اسے قابو رکھا جا سکتا ہے — اسی لیے ویکسین کے ذریعے بچاؤ اتنا اہم ہے۔

معتبر حوالہ جات

بنیادی ماخذ

عالمی ادارۂ صحت (WHO EMRO)
پاکستان میں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

  • WHO Pakistan hepatitis factsheet 2026: https://www.emro.who.int/images/stories/pakistan/Pakistan-hepatitis-factsheet-2026.pdf
  • WHO Global Hepatitis Report 2024: https://www.who.int/publications/i/item/9789240091672
  • Dunya News, citing WHO: https://dunyanews.tv/en/Health/965104-who-says-129-million-people-living-with-hepatitis-in-pakistan
  • WHO on hepatitis C treatment: https://www.who.int/teams/global-hiv-hepatitis-and-stis-programmes/hepatitis/treatment-care/hcv-treatment
  • CDC — perinatal hepatitis B guidance: https://www.cdc.gov/hepatitis-b/hcp/perinatal-provider-overview/clinical-testing-guidelines.html

صرف وہ تحریریں ڈاکٹر عمر کے طبی جائزے سے گزری ہیں جن پر Reviewed ✓ اور تاریخ درج ہے۔

اس مضمون کا جائزہ کیسے لیا گیا

  • تحریر: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس — اکتوبر 2026
  • طبی جائزہ: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس نے مکمل کیا — اکتوبر 2026۔
  • کوئی غلطی نظر آئی؟ ای میل پر ڈاکٹر عمر کو بتائیں
ورژن 1.0 · آخری اپڈیٹ 21 اکتوبر 2026
ورژن کی تاریخ
ورژنتاریخکیا تبدیلی ہوئی
v1.021 اکتوبر 2026پہلی اشاعت — 20 مضامین کے صحت بیچ کا حصہ، جسے ڈاکٹر عمر نے 20 اکتوبر 2026 کو منظور کیا تھا (درستگیاں اشاعت سے پہلے لگائی گئیں)۔