Ask Dr. Umer
کینسر

ایچ پی وی ویکسین اور سروائیکل کینسر: والدین کے لیے ضروری معلومات

یہ مضمون ایپ میں کھولیں

مختصر جواب

سروائیکل کینسر بچہ دانی کے منہ (سروکس) میں پیدا ہوتا ہے — اور یہ ان چند کینسرز میں سے ہے جن سے ویکسین کے ذریعے بچا جا سکتا ہے اور اسکریننگ سے جلدی پکڑا جا سکتا ہے۔ تقریباً ہر کیس ایک عام وائرس ایچ پی وی (ہیومن پیپیلوما وائرس) سے ہوتا ہے جو جنسی رابطے سے پھیلتا ہے۔ پاکستان میں سروائیکل کینسر مجموعی طور پر خواتین میں تیسرا سب سے عام کینسر ہے — اور 15 سے 44 سال کی خواتین میں دوسرا سب سے عام کینسر — جو ہر سال ہزاروں جانیں لیتا ہے، زیادہ تر اس لیے کہ دیر سے پکڑا جاتا ہے۔

بات کو آسانی سے سمجھیں

سروائیکل کینسر بچہ دانی کے منہ (سروکس) میں پیدا ہوتا ہے — اور یہ ان چند کینسرز میں سے ہے جن سے ویکسین کے ذریعے بچا جا سکتا ہے اور اسکریننگ سے جلدی پکڑا جا سکتا ہے۔ تقریباً ہر کیس ایک عام وائرس ایچ پی وی (ہیومن پیپیلوما وائرس) سے ہوتا ہے جو جنسی رابطے سے پھیلتا ہے۔ پاکستان میں سروائیکل کینسر مجموعی طور پر خواتین میں تیسرا سب سے عام کینسر ہے — اور 15 سے 44 سال کی خواتین میں دوسرا سب سے عام کینسر — جو ہر سال ہزاروں جانیں لیتا ہے، زیادہ تر اس لیے کہ دیر سے پکڑا جاتا ہے۔ (عالمی سطح پر سروائیکل کینسر خواتین میں چوتھا سب سے عام کینسر ہے — "چوتھے نمبر" کی غلط فہمی عموماً اسی عالمی درجے سے پیدا ہوتی ہے۔) ستمبر 2025 میں پاکستان نے کم عمر بچیوں کے لیے اپنی پہلی قومی ایچ پی وی ویکسینیشن مہم شروع کی — ایک تاریخی قدم۔ لیکن افواہوں اور غلط معلومات (بشمول یہ جھوٹا دعویٰ کہ ویکسین بانجھ پن پیدا کرتی ہے) نے کچھ والدین کو دور رکھا۔ یہ مضمون آپ کو تصدیق شدہ حقائق دیتا ہے تاکہ آپ اعتماد سے فیصلہ کر سکیں۔

عام وجوہات

  • 1WHO کے سروائیکل کینسر صفحے کے مطابق تقریباً تمام سروائیکل کینسر کیسز (99 فیصد) ایچ پی وی انفیکشن سے منسلک ہیں۔
    زیادہ تر ایچ پی وی انفیکشن میں کوئی علامت نہیں ہوتی اور خود ٹھیک ہو جاتے ہیں — لیکن ہائی رسک اقسام کا مستقل انفیکشن سالوں بعد کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔
  • 2عالمی نقصان بہت بڑا ہے:
    2022 میں تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار خواتین میں تشخیص ہوئی اور 3 لاکھ 50 ہزار ہلاک ہوئیں — WHO کے مطابق۔ پاکستان میں ہر سال 5 ہزار سے زیادہ خواتین سروائیکل کینسر کا شکار ہوتی ہیں اور ان میں سے تقریباً 3 ہزار 200 (64 فیصد) ہلاک ہو جاتی ہیں — WHO پاکستان کے مطابق۔
  • 3ویکسین محفوظ اور موثر ہے۔
    WHO کی ایچ پی وی فیکٹ شیٹ) کے مطابق ایچ پی وی ویکسین محفوظ، موثر اور کئی ممالک میں معمول کے مطابق استعمال ہوتی ہے، اور ابتدائی نوجوانی یعنی 9 سے 14 سال کی عمر میں تجویز کی جاتی ہے، بچیوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
  • 4پاکستان کی تاریخی مہم:
    15 ستمبر 2025 کو پاکستان نے اپنی پہلی ایچ پی وی ویکسینیشن مہم شروع کی جس کا ہدف پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں 9 سے 14 سال کی 1 کروڑ 30 لاکھ بچیاں تھیں — اسکولوں، مدارس، صحت مراکز اور موبائل ٹیموں کے ذریعے مفت واحد خوراک، WHO، یونیسیف اور گاوی کے تعاون سے — WHO EMRO کی رپورٹ کے مطابق۔ تقریباً 96 لاکھ بچیوں کو ویکسین لگائی گئی، اور پروگرام مزید صوبوں تک پھیل رہا ہے۔
  • 5بانجھ پن کی افواہ جھوٹی ہے۔
    پاکستان کے وفاقی وزیر صحت نے اس افواہ کا مقابلہ کرنے کے لیے مہم کے دوران سرعام اپنی بیٹی کو ویکسین لگوائی اور کہا کہ یہ ویکسین "محفوظ، موثر اور ہماری بچیوں کی حفاظت کے لیے ضروری" ہے (WHO EMRO رپورٹ)۔ WHO کا HPV ویکسین پوزیشن پیپر (دسمبر 2022) — جو SAGE ماہرین کی سفارشات پر مبنی ہے — بھی ویکسین کو محفوظ اور موثر قرار دیتا ہے۔ ایچ پی وی ویکسین سے بانجھ پن ہونے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں۔
  • 6اسکریننگ اب بھی ضروری ہے — ویکسین کے بعد بھی۔
    امریکن کینسر سوسائٹی کی ہدایات 25 سال کی عمر سے سروائیکل اسکریننگ کی سفارش کرتی ہیں: ہر 5 سال بعد بنیادی ایچ پی وی ٹیسٹ (25 سے 65 سال)؛ جہاں ایچ پی وی ٹیسٹنگ دستیاب نہ ہو، وہاں ہر 3 سال بعد پیپ ٹیسٹ یا ہر 5 سال بعد مشترکہ ٹیسٹ قابل قبول متبادل ہیں۔ معمول کے نتائج کی ہسٹری کے ساتھ 65 سال کے بعد اسکریننگ عام طور پر روکی جا سکتی ہے۔
  • 7جلدی پکڑا گیا سروائیکل کینسر سب سے کامیابی سے قابل علاج کینسرز میں سے ہے
    WHO کے مطابق — اسی لیے ویکسینیشن اور اسکریننگ دونوں اہم ہیں۔

فوراً کب توجہ دینی ہے

ان علامات میں فوراً مدد لیں

اگر درج ذیل میں سے کچھ نظر آئے تو جلد گائناکالوجسٹ سے ملیں:

ایمرجنسی؟ ابھی کال کریںPakistan 1122 · USA/Canada 911 · UK 999 · Europe 112 · Australia 000

روزمرہ میں کیا کریں

  • ✓اپنی بیٹیوں (9 سے 14 سال) کو ویکسین لگوائیں۔ اگر آپ کی بیٹی 2025 کی مہم سے رہ گئی ہے تو قریبی سرکاری صحت مرکز، ای پی آئی مرکز یا اسکول ہیلتھ پروگرام سے پوچھیں — قومی پروگرام کے تحت ویکسین مفت ہے۔ پاکستان کا قومی پروگرام WHO کی اجازت یافتہ سنگل ڈوز (ایک خوراک) کی پالیسی استعمال کرتا ہے۔
  • ✓سوشل میڈیا کی افواہوں پر یقین نہ کریں۔ یہ ویکسین WHO سے منظور شدہ ہے، 150 سے زیادہ ممالک میں استعمال ہوتی ہے، اور پاکستان کے وزیر صحت نے سرعام اپنی بیٹی کو لگوائی۔ اگر شک ہو تو ڈاکٹر سے پوچھیں — فارورڈ شدہ ویڈیو سے نہیں۔
  • ✓25 سال اور زائد عمر کی خواتین: اسکریننگ کروائیں۔ اپنی گائناکالوجسٹ سے تجویز کردہ وقفوں پر پیپ ٹیسٹ یا ایچ پی وی ٹیسٹنگ کے بارے میں پوچھیں — چاہے آپ بالکل ٹھیک محسوس کریں اور چاہے آپ کو ویکسین لگی ہو۔ اسکریننگ کینسر بننے سے پہلے کی تبدیلیوں کو پکڑتی ہے۔
  • ✓علامات جانیں اور خون بہنے کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔ کسی بھی غیر معمولی اندام نہانی خون بہنے پر فوراً ڈاکٹر سے ملیں (خطرے کی علامات نیچے دیکھیں)۔
  • ✓اس بارے میں بات کریں۔ سروائیکل کینسر خاموشی میں پنپتا ہے۔ مائیں اپنی بیٹیوں سے بات کریں؛ شوہر اپنی بیویوں کی اسکریننگ میں ساتھ دیں۔ کینسر سے بچاؤ میں کوئی شرم نہیں۔
  • ✓لڑکے اور مرد: ایچ پی وی مردوں میں بھی دیگر کینسر اور مسوں کا سبب بنتا ہے۔ ترجیح بچیوں کی ویکسینیشن ہے، لیکن آگاہی سب کے لیے فائدہ مند ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سروائیکل کینسر کی وجہ کیا ہے؟

ہائی رسک اقسام کے ایچ پی وی (ہیومن پیپیلوما وائرس) کا مستقل انفیکشن — ایک بہت عام وائرس جو جنسی رابطے سے پھیلتا ہے۔ 99 فیصد سروائیکل کینسر ایچ پی وی سے منسلک ہیں۔ زیادہ تر انفیکشن خود ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن جب ہائی رسک انفیکشن سالوں تک برقرار رہے تو کینسر ہو سکتا ہے۔

کیا ایچ پی وی ویکسین محفوظ ہے؟ کیا یہ بانجھ پن پیدا کرتی ہے؟

جی ہاں، یہ محفوظ ہے — اور نہیں، یہ بانجھ پن پیدا نہیں کرتی۔ یہ ویکسین WHO سے منظور شدہ ہے اور 150 سے زیادہ ممالک میں استعمال ہوتی ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر صحت نے 2025 کی مہم کے دوران سرعام اپنی بیٹی کو ویکسین لگوائی تاکہ اسی افواہ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ایچ پی وی ویکسین کو بانجھ پن سے جوڑنے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں۔ اصل خطرہ خود سروائیکل کینسر ہے۔

میری بیٹی 2025 کی ایچ پی وی مہم سے رہ گئی۔ اب کیا کریں؟

قریبی سرکاری صحت مرکز، ای پی آئی ویکسینیشن مرکز، یا اپنی بیٹی کے اسکول سے پوچھیں — قومی پروگرام 9 سے 14 سال کی بچیوں کو ویکسین مفت فراہم کرتا ہے، اور پروگرام کے مزید صوبوں تک پھیلنے کے ساتھ مواقع جاری ہیں۔ پاکستان کا قومی پروگرام WHO کی اجازت یافتہ سنگل ڈوز (ایک خوراک) کی پالیسی استعمال کرتا ہے۔

اگر میں نے ایچ پی وی ویکسین لگوائی ہے تو کیا پھر بھی پیپ ٹیسٹ کی ضرورت ہے؟

جی ہاں۔ ویکسین ان ایچ پی وی اقسام سے بچاتی ہے جو زیادہ تر سروائیکل کینسر کا سبب بنتی ہیں، لیکن تمام اقسام سے نہیں — اور یہ موجودہ انفیکشن کا علاج نہیں کرتی۔ بین الاقوامی ہدایات کے مطابق ویکسین شدہ خواتین بھی معمول کی اسکریننگ (25 سال کی عمر سے) جاری رکھیں۔

سروائیکل کینسر کی اسکریننگ کس عمر سے شروع کرنی چاہیے؟

بین الاقوامی (امریکن کینسر سوسائٹی) ہدایات 25 سال کی عمر کہتی ہیں، 65 سال تک ہر 5 سال بعد بنیادی ایچ پی وی ٹیسٹ (یا جہاں ایچ پی وی ٹیسٹنگ دستیاب نہ ہو وہاں ہر 3 سال بعد پیپ ٹیسٹ)۔ آپ کی گائناکالوجسٹ پاکستان میں آپ کے قریب دستیاب ٹیسٹوں کی بنیاد پر مشورہ دے سکتی ہیں۔

معتبر حوالہ جات

بنیادی ماخذ

عالمی ادارۂ صحت (WHO)
WHO کے سروائیکل کینسر صفحے کے مطابق تقریباً تمام سروائیکل کینسر کیسز (99 فیصد) ایچ پی وی انفیکشن سے منسلک ہیں۔

  • WHO's cervical cancer page: https://www.who.int/health-topics/cervical-cancer
  • WHO Pakistan: https://www.emro.who.int/pak/pakistan-news/against-the-odds-pakistans-health-heroes-protecting-girls-from-cervical-cancer.html
  • WHO's HPV fact sheet: https://www.who.int/europe/news-room/fact-sheets/item/human-papillomavirus-(hpv
  • WHO EMRO: https://www.emro.who.int/pak/pakistan-news/pakistan-joins-150-countries-to-protect-13-million-girls-from-cervical-cancer-with-who-prequalified-vaccine.html
  • American Cancer Society's guidelines: https://www.yalemedicine.org/departments/smilow-cancer-screening-and-prevention-program/cervicalcancerscreeninginfo
  • HPV vaccine position paper (December 2022): https://www.who.int/publications/i/item/who-wer9750-645-672

صرف وہ تحریریں ڈاکٹر عمر کے طبی جائزے سے گزری ہیں جن پر Reviewed ✓ اور تاریخ درج ہے۔

اس مضمون کا جائزہ کیسے لیا گیا

  • تحریر: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس — اکتوبر 2026
  • طبی جائزہ: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس نے مکمل کیا — اکتوبر 2026۔
  • کوئی غلطی نظر آئی؟ ای میل پر ڈاکٹر عمر کو بتائیں
ورژن 1.0 · آخری اپڈیٹ 21 اکتوبر 2026
ورژن کی تاریخ
ورژنتاریخکیا تبدیلی ہوئی
v1.021 اکتوبر 2026پہلی اشاعت — 20 مضامین کے صحت بیچ کا حصہ، جسے ڈاکٹر عمر نے 20 اکتوبر 2026 کو منظور کیا تھا (درستگیاں اشاعت سے پہلے لگائی گئیں)۔