کتے کے کاٹنے پر فوری اقدامات — ریبیز سے بچاؤ کی مکمل رہنمائی
ریبیز ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو زیادہ تر متاثرہ کتوں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ پاکستان میں گلیوں، بازاروں اور دیہات میں آوارہ کتے عام ہیں، اور روزانہ کتے کے کاٹنے کے واقعات ہوتے ہیں۔ ایک بات سیدھی اور واضح سمجھ لیں: ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ مرض تقریباً سو فیصد جان لیوا ہو جاتا ہے — لیکن کاٹنے کے فوراً بعد علاج شروع کر دیا جائے تو اس سے تقریباً مکمل بچاؤ ممکن ہے۔ اصل المیہ کاٹنا نہیں، تاخیر ہے۔ پاکستان میں آج بھی بہت سے لوگ گھریلو ٹوٹکوں پر بھروسہ کرتے ہیں یا یہ دیکھنے کا انتظار کرتے ہیں کہ کتا "واقعی بیمار تھا یا نہیں"، اور اسی انتظار میں بچاؤ کا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔
بات کو آسانی سے سمجھیں
ریبیز ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو زیادہ تر متاثرہ کتوں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ پاکستان میں گلیوں، بازاروں اور دیہات میں آوارہ کتے عام ہیں، اور روزانہ کتے کے کاٹنے کے واقعات ہوتے ہیں۔ ایک بات سیدھی اور واضح سمجھ لیں: ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ مرض تقریباً سو فیصد جان لیوا ہو جاتا ہے — لیکن کاٹنے کے فوراً بعد علاج شروع کر دیا جائے تو اس سے تقریباً مکمل بچاؤ ممکن ہے۔ اصل المیہ کاٹنا نہیں، تاخیر ہے۔ پاکستان میں آج بھی بہت سے لوگ گھریلو ٹوٹکوں پر بھروسہ کرتے ہیں یا یہ دیکھنے کا انتظار کرتے ہیں کہ کتا "واقعی بیمار تھا یا نہیں"، اور اسی انتظار میں بچاؤ کا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کاٹنے کے بعد پہلے منٹوں اور گھنٹوں میں بالکل کیا کرنا چاہیے۔
عام وجوہات
- زخم کو 15 سے 20 منٹ تک دھوئیں۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق زخم کو صابن اور بہتے ہوئے پانی سے اچھی طرح رگڑ کر کم از کم 15 سے 20 منٹ تک دھونا سب سے اہم ابتدائی اقدام ہے — اس سے زخم میں موجود وائرس کی مقدار بہت حد تک کم ہو جاتی ہے (WHO ریبیز فیکٹ شیٹ)۔ اس کے بعد اگر دستیاب ہو تو پوویڈون آئیوڈین جیسا آئیوڈین والا جراثیم کش محلول یا الکحل بھی لگایا جا سکتا ہے۔ - ہر رابطہ ایک جیسا خطرناک نہیں — WHO کی تین کیٹیگریز علاج کا فیصلہ کرتی ہیں:
کیٹیگری اول (جانور کو چھونا، کھلانا، یا صحیح جلد پر چاٹنا) میں صرف دھونا کافی ہے؛ کیٹیگری دوم (بغیر خون نکلے ہلکی خراش یا کترنا) میں دھونے کے ساتھ ریبیز ویکسین ضروری ہے؛ کیٹیگری سوم (جلد پھاڑ دینے والا کاٹنا یا خراش، زخم یا آنکھ/منہ/ناک پر لعاب لگنا، چمگادڑ سے رابطہ) میں دھونے اور ویکسین کے ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولن (RIG) بھی زخم میں لگایا جاتا ہے (WHO ریبیز فیکٹ شیٹ)۔ - علاج (PEP) چند ہفتوں میں ویکسین کے چند ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
WHO سے منظور شدہ طریقوں میں پٹھوں میں لگنے والے طریقے (زغرب اور ایسن ریجیمن) اور جلد میں لگنے والے سستے طریقے (مثلاً تھائی ریڈ کراس طریقہ: 0، 3، 7 اور 28ویں دن) شامل ہیں — جلد والا طریقہ ویکسین کی لاگت 60 سے 80 فیصد تک کم کر دیتا ہے، بغیر حفاظت یا افادیت گھٹائے (WHO ریبیز فیکٹ شیٹ)۔ - RIG شدید کاٹنے کے لیے ہے۔
کیٹیگری سوم کے زخموں میں، جن افراد کو پہلے کبھی ریبیز ویکسین نہیں لگی، RIG زخم کے اندر اور اردگرد لگایا جاتا ہے — صرف ایک بار، اور پہلی ویکسین کے 7 دن کے اندر۔ پہلی ویکسین کی خوراک RIG کے انتظار میں کبھی ملتوی نہیں کرنی چاہیے (WHO PEP پروٹوکول)۔ اگر آپ پہلے مکمل ریبیز ویکسین لے چکے ہیں تو نئے کاٹنے پر عموماً صرف دو بوسٹر خوراکیں (پہلے اور تیسرے دن) کافی ہوتی ہیں — RIG کی ضرورت نہیں (WHO رہنمائی)۔ - زخم کو فوراً سیئیں نہیں، کس کر پٹی نہ باندھیں، اور کوئی گھریلو ٹوٹکا نہ لگائیں۔
WHO کی ہدایت ہے کہ زخم کو سینے سے گریز کیا جائے؛ اگر سینا ناگزیر ہو تو RIG لگنے کے کئی گھنٹے بعد اور ڈھیلے ٹانکے لگائے جائیں (WHO رہنمائی)۔ زخم پر مرچ، تیل، ٹوتھ پیسٹ یا کوئی دینی/روحانی ٹوٹکا ہرگز نہ لگائیں — مریض کی رہنمائی میں گھریلو علاج سے واضح طور پر منع کیا گیا ہے (WHO PEP پروٹوکول)۔ - ٹیٹنس کا بھی جائزہ لیں۔
چونکہ کاٹنے کے زخم عموماً آلودہ ہوتے ہیں، قومی ہدایات کے مطابق ٹیٹنس کا بوسٹر ٹیکہ بھی تجویز کیا جاتا ہے (WHO PEP پروٹوکول)۔ - پاکستان میں مسئلے کی سنگینی حقیقی ہے۔
پاکستان میں ہر سال اندازاً 2,000 سے 5,000 اموات ریبیز سے ہوتی ہیں، جن میں سے تقریباً 96 فیصد متاثرہ کتوں کے کاٹنے سے منسلک ہیں (ڈان / انڈس اسپتال رپورٹ)۔ قومی ادارۂ صحت (NIH) کے مطابق ملک بھر میں صرف ایک ہفتے میں 5,641 کتے کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوئے، اور سرکاری اسپتالوں میں روزانہ تقریباً 50 سے 70 کیسز آتے ہیں (پاکستان ٹوڈے / NIH)۔ سرکاری اسپتالوں میں ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبیولن ہمیشہ دستیاب نہیں ہوتے اور قلت بھی ہو چکی ہے — اس لیے ایسے مرکز جائیں جہاں یہ دوائیں موجود ہوں (دی نیوز)۔
فوراً کب توجہ دینی ہے
ان علامات میں فوراً مدد لیں
جلد پھاڑ دینے والا کوئی بھی کاٹنا یا خراش — اسی دن اسپتال جائیں۔ "دیکھتے ہیں" والا رویہ نہ اپنائیں۔
ڈاکٹر کن باتوں کی جانچ کرتا ہے
ریبیز ویکسین: کئی دنوں پر پھیلے ہوئے ٹیکوں کا سلسلہ (مثلاً 0، 3، 7 اور 28ویں دن) جو آپ کے مدافعتی نظام کو وائرس سے لڑنے کی تربیت دیتا ہے۔ مکمل سلسلہ پورا کریں — ہر خوراک اہم ہے۔ ریبیز امیون گلوبیولن (RIG): گہرے یا زیادہ خطرے والے کاٹنے پر ڈاکٹر تیار اینٹی باڈیز براہ راست زخم کے اندر اور اردگرد لگاتے ہیں، تاکہ ویکسین کے اثر انداز ہونے تک فوری حفاظت حاصل ہو۔ ٹیٹنس کا ٹیکہ: آپ کی ویکسینیشن کی سابقہ صورتحال کے مطابق آپ کو ٹیٹنس کا بوسٹر ٹیکہ بھی لگ سکتا ہے۔
روزمرہ میں کیا کریں
- پہلے منٹوں میں: زخم کو صابن اور بہتے پانی سے پورے 15 سے 20 منٹ تک رگڑ کر دھوئیں۔ تھوڑا خون بہنے دیں — زور سے نہ دبائیں۔ اگر آنکھوں یا منہ پر لعاب لگا ہو تو صاف پانی سے خوب دھوئیں۔ اس کے بعد اگر موجود ہو تو جراثیم کش (آئیوڈین والا محلول یا الکحل) لگائیں۔
- یہ نہ کریں: مرچ، تیل، سرمہ یا کوئی ٹوٹکا نہ لگائیں۔ زخم پر کس کر پٹی نہ باندھیں اور فوراً ٹانکے لگوانے کا اصرار نہ کریں۔
- اسی دن اسپتال یا کلینک جائیں — بہتر ہے چند گھنٹوں میں — جائزے اور ریبیز ویکسین کے لیے۔ علامات ظاہر ہونے کا انتظار ہرگز نہ کریں — ریبیز سے بچاؤ صرف علامات شروع ہونے سے پہلے ممکن ہے۔ اگر ہو سکے تو جانور کی تفصیل نوٹ کر لیں (آوارہ تھا یا پالتو، اب کہاں ہے)۔
- ویکسین کی ہر خوراک وقت پر مکمل کریں۔ خوراک چھوڑنے سے حفاظت ٹوٹ جاتی ہے۔ اگر کوئی خوراک دیر سے ہو جائے تو سلسلہ وہیں سے جاری رکھیں — نئے سرے سے شروع نہ کریں۔
- ڈاکٹر سے ضرور پوچھیں: (الف) کیا مجھے ریبیز امیونوگلوبیولن (RIG) کی ضرورت ہے (گہرے/خون آلود کاٹنے پر)، (ب) میری ٹیٹنس ویکسین کی صورتحال کیا ہے، (ج) زخم کی دیکھ بھال اور جراثیمی انفیکشن کی علامات (بڑھتا درد، سوجن، پیپ، بخار) کیا ہیں۔
- اگر ممکن ہو تو جانور پر نظر رکھیں: اگر کتا پالتو اور صحت مند ہے تو ویٹرنری مشورے سے تقریباً 10 دن تک اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے — لیکن ویکسین کا کورس بہرحال شروع کریں؛ کتے کا حال دیکھنے کا انتظار نہ کریں۔ ریبیز کے علاج میں کوئی رکاوٹ نہیں — حمل بھی اسے روکنے کی وجہ نہیں (WHO PEP پروٹوکول)۔
- بچاؤ کے لیے: بچوں کو آوارہ یا نامعلوم کتوں سے دور رکھیں، اور اگر آپ جانوروں کے ساتھ کام کرتے ہیں یا ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں کاٹنے کے واقعات عام ہیں تو پہلے سے حفاظتی ویکسین (WHO کے مطابق صرف 2 ملاقاتوں کا مختصر کورس) پر غور کریں — اس سے بعد میں علاج آسان ہو جاتا ہے۔ اپنے پالتو کتوں کو ویکسین ضرور لگوائیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
— زخم کو صابن اور بہتے پانی سے 15 سے 20 منٹ رگڑ کر دھوئیں، اگر موجود ہو تو جراثیم کش (آئیوڈین والا محلول یا الکحل) لگائیں — اس کے علاوہ کچھ نہ لگائیں — اور اسی دن اسپتال جا کر ریبیز ویکسین کا کورس شروع کروائیں۔ علامات کا انتظار نہ کریں: بچاؤ صرف علامات ظاہر ہونے سے پہلے عمل کرنے پر ممکن ہے۔
— نہیں۔ کاٹنے کے بعد علاج چند ہفتوں میں کئی ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے، اور سب مکمل کرنا ضروری ہے۔ اگر پہلے مکمل ریبیز ویکسین لے چکے ہیں تو بھی نئے کاٹنے پر دو بوسٹر خوراکیں لگتی ہیں — فیصلہ ڈاکٹر کرے گا۔
— فوراً سینے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اس سے وائرس اندر پھنس سکتا ہے۔ اگر خون بہنا یا بڑا زخم ہو اور سینا ناگزیر ہو تو RIG لگنے کے بعد تاخیر سے اور ڈھیلے ٹانکے لگائے جائیں۔
— نہیں۔ بغیر کاٹے یا خراش کے چھونا، کھلانا یا قریب ہونا کوئی خطرہ نہیں۔ صرف کاٹنا، جلد پھاڑنے والی خراش، یا زخم/آنکھ/منہ/ناک پر لعاب لگنا خطرہ ہے۔
— نہیں۔ کتا بیمار نظر آنے سے پہلے بھی ریبیز پھیلا سکتا ہے۔ ہمیشہ علاج شروع کریں؛ اگر کتا پالتو اور صحت مند ہے تو ڈاکٹر مشاہدے کو بھی مدنظر رکھ سکتا ہے — یہ فیصلہ خود نہ کریں۔
— سرکاری اسپتالوں اور انڈس اسپتال جیسے مراکز پر WHO معیار کا علاج مفت ملتا ہے، لیکن ذخیرہ ہمیشہ مستقل نہیں رہتا — جلدی جائیں اور پہلے تصدیق کریں کہ ویکسین دستیاب ہے (دی نیوز)۔
معتبر حوالہ جات
عالمی ادارۂ صحت (WHO)
زخم کو 15 سے 20 منٹ تک دھوئیں۔
- WHO rabies fact sheet: https://www.who.int/news-room/fact-sheets/detail/rabies/
- WHO rabies PEP delivery protocol: https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC10752235/
- WHO rabies prevention guidance: https://www.who-rabies-bulletin.org/member/About_Rabies/Prevention_Humans.aspx
- DAWN / Indus Hospital World Rabies Day report: https://www.dawn.com/news/2034392
- Pakistan Today / NIH: https://www.pakistantoday.com.pk/2026/02/10/post-317709
- The News on Sunday — rabies in Pakistan: https://www.thenews.com.pk/tns/detail/1346841-protecting-communities-preventing-deaths
صرف وہ تحریریں ڈاکٹر عمر کے طبی جائزے سے گزری ہیں جن پر Reviewed ✓ اور تاریخ درج ہے۔
اس مضمون کا جائزہ کیسے لیا گیا
- تحریر: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس — اکتوبر 2026
- طبی جائزہ: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس نے مکمل کیا — اکتوبر 2026۔
- کوئی غلطی نظر آئی؟ ای میل پر ڈاکٹر عمر کو بتائیں