دل کے دورے کی علامات: جلدی پہچانیں، فوراً 1122 ملائیں
دل کا دورہ اس وقت پڑتا ہے جب دل کے کسی حصے کو خون پہنچنا رک جائے — عموماً خون کے لوتھڑے کی وجہ سے — اور آکسیجن سے محروم دل کا پٹھا چند منٹ میں مرنا شروع ہو جائے۔ فلموں کے برعکس، زیادہ تر دورے اچانک نہیں آتے؛ وہ آہستہ آہستہ، ہلکے درد یا بے چینی کے ساتھ شروع ہوتے ہیں۔ اسی لیے بہت سے لوگ انتظار کرتے رہ جاتے ہیں — اور ہر منٹ کا انتظار دل کے پٹھے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پاکستان میں مریضوں کے دیر سے ہسپتال پہنچنے کی ایک بڑی وجہ علامات کو پہچاننے میں دیر ہے۔ علامات پہلے سے جان لینا آپ اور آپ کے خاندان کی حفاظت کا سب سے آسان طریقہ ہے۔
بات کو آسانی سے سمجھیں
دل کا دورہ اس وقت پڑتا ہے جب دل کے کسی حصے کو خون پہنچنا رک جائے — عموماً خون کے لوتھڑے کی وجہ سے — اور آکسیجن سے محروم دل کا پٹھا چند منٹ میں مرنا شروع ہو جائے۔ فلموں کے برعکس، زیادہ تر دورے اچانک نہیں آتے؛ وہ آہستہ آہستہ، ہلکے درد یا بے چینی کے ساتھ شروع ہوتے ہیں۔ اسی لیے بہت سے لوگ انتظار کرتے رہ جاتے ہیں — اور ہر منٹ کا انتظار دل کے پٹھے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پاکستان میں مریضوں کے دیر سے ہسپتال پہنچنے کی ایک بڑی وجہ علامات کو پہچاننے میں دیر ہے۔ علامات پہلے سے جان لینا آپ اور آپ کے خاندان کی حفاظت کا سب سے آسان طریقہ ہے۔
عام وجوہات
- سینے میں بے چینی سب سے عام علامت ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق سینے کے بیچ میں دباؤ، گھٹن، بھراؤ یا درد محسوس ہوتا ہے جو چند منٹ سے زیادہ رہے، یا جائے اور پھر واپس آئے۔ - درد سینے سے آگے بھی پھیل سکتا ہے۔
ایک یا دونوں بازوؤں، کمر، گردن، جبڑے یا پیٹ میں درد یا بے چینی ہو سکتی ہے — کبھی کبھی سینے میں درد کے بغیر بھی۔ - سانس پھولنا
سینے کی تکلیف کے ساتھ یا اس کے بغیر ہو سکتا ہے۔ - دیگر ممکنہ علامات:
اچانک ٹھنڈا پسینہ آنا، متلی، چکر آنا، یا غیر معمولی تھکاوٹ۔ - خواتین میں علامات اکثر مختلف ہوتی ہیں۔
اے ایچ اے کے مطابق خواتین میں بھی سینے کا درد سب سے عام علامت ہے، لیکن مردوں کے مقابلے میں خواتین میں سانس پھولنے، متلی یا قے، اور کمر یا جبڑے کے درد کا امکان زیادہ ہوتا ہے — اور یہی وجہ ہے کہ خواتین کا علاج اکثر دیر سے شروع ہوتا ہے۔ خواتین میں بے چینی، غیر معمولی تھکاوٹ اور کمزوری بھی زیادہ دیکھی گئی ہے۔ - بزرگوں اور شوگر کے مریضوں
میں علامات ہلکی یا غیر واضح ہو سکتی ہیں — کبھی صرف سانس پھولنا یا تھکاوٹ (ADA)۔ انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ - تیز عمل سے دل کا پٹھا بچتا ہے۔
بند شریان جتنی جلدی کھولی جائے گی، اتنا زیادہ دل کا پٹھا بچے گا۔ علامات شروع ہوتے ہی چند منٹ میں مدد کے لیے کال کریں — چاہے یقین نہ ہو۔ غلط خبر سے ڈرنے کے بجائے دیر سے پہنچنا کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
فوراً کب توجہ دینی ہے
ان علامات میں فوراً مدد لیں
ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً 1122 ملائیں — انتظار نہ کریں:
روزمرہ میں کیا کریں
- فوراً 1122 پر کال کریں (پاکستان کا ایمرجنسی نمبر)۔ واضح کہیں: "مجھے لگتا ہے دل کا دورہ پڑ رہا ہے۔" فیصلہ کرنے میں چند منٹ سے زیادہ انتظار نہ کریں۔
- خود گاڑی چلا کر ہسپتال نہ جائیں۔ ایمبولینس کا عملہ راستے میں ہی علاج شروع کر سکتا ہے اور ہسپتال کو پہلے سے اطلاع دے سکتا ہے۔ ڈرائیونگ کے دوران بے ہوش ہونا سڑک پر سب کے لیے خطرہ ہے۔
- آپریٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔ وہ اسپرین چبانے کا مشورہ دے سکتے ہیں — صرف اس صورت میں جب الرجی نہ ہو اور اسپرین سے منع نہ کیا گیا ہو۔ دوا ڈھونڈنے میں کال میں تاخیر نہ کریں۔
- بیٹھ جائیں اور آرام کریں۔ تنگ کپڑے ڈھیلے کریں، حتی الامکان پرسکون رہیں، اور سامنے کا دروازہ کھول دیں تاکہ امدادی عملہ اندر آسکے۔
- اگر مریض بے ہوش ہو جائے اور جواب نہ دے: فوراً ہینڈز اونلی سی پی آر شروع کریں — سینے کے بیچ میں زور سے اور تیزی سے دبائیں — اور کسی کو مدد کے لیے بھیجیں۔
- صحت یابی کے بعد: اپنے کارڈیالوجسٹ سے باقاعدگی سے ملیں، تجویز کردہ دوائیں بالکل ہدایت کے مطابق لیں، اور کبھی خود سے دل کی دوا بند نہ کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
عموماً سینے کے بیچ میں دباؤ یا درد جو چند منٹ سے زیادہ رہے، کبھی بازوؤں، گردن، جبڑے، کمر یا پیٹ تک پھیلتا ہے — ساتھ میں سانس پھولنا، ٹھنڈا پسینہ، متلی یا چکر آنا بھی ہو سکتا ہے۔
جی ہاں۔ کچھ لوگوں — خاص طور پر خواتین، بزرگوں اور شوگر کے مریضوں — میں سینے کا درد بہت کم یا بالکل نہیں ہوتا۔ انہیں صرف سانس پھولنا، متلی، جبڑے یا کمر کا درد، یا شدید تھکاوٹ محسوس ہو سکتی ہے۔ یہ بھی دل کے دورے کی علامات ہیں۔
فوراً 1122 پر کال کریں اور آپریٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔ مریض کو بٹھا کر آرام کروائیں، انہیں گاڑی چلانے نہ دیں، اور مدد آنے تک ساتھ رہیں۔
ایمرجنسی آپریٹر اسپرین چبانے کا مشورہ دے سکتا ہے — لیکن صرف اس صورت میں جب مریض کو الرجی نہ ہو اور اسپرین سے منع نہ کیا گیا ہو۔ پہلے 1122 پر کال کریں؛ دوا ڈھونڈنے میں کال میں تاخیر ہرگز نہ کریں۔
گیس کا درد عموماً کھانے کے بعد بڑھتا ہے اور ڈکار سے کم ہوتا ہے، جبکہ دل کے دورے کا درد یا دباؤ آرام سے کم نہیں ہوتا اور ٹھنڈے پسینے، سانس پھولنے یا بازو/جبڑے تک پھیلنے کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ شک ہو تو خطرہ نہ لیں — فوراً 1122 ملائیں۔ صرف ڈاکٹر ہی معائنے اور ٹیسٹ سے فرق بتا سکتا ہے۔
معتبر حوالہ جات
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن
سینے میں بے چینی سب سے عام علامت ہے۔
- American Heart Association: https://www.heart.org/en/health-topics/heart-attack/warning-signs-of-a-heart-attack/
- American Diabetes Association: https://diabetes.org/about-diabetes/complications/cardiovascular-disease
صرف وہ تحریریں ڈاکٹر عمر کے طبی جائزے سے گزری ہیں جن پر Reviewed ✓ اور تاریخ درج ہے۔
اس مضمون کا جائزہ کیسے لیا گیا
- تحریر: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس — اکتوبر 2026
- طبی جائزہ: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس نے مکمل کیا — اکتوبر 2026۔
- کوئی غلطی نظر آئی؟ ای میل پر ڈاکٹر عمر کو بتائیں