یورک ایسڈ اور گاؤٹ: خوراک اور علاج کی آسان رہنمائی
صرف یورک ایسڈ زیادہ ہونا گاؤٹ کی تشخیص نہیں ہے۔ یورک ایسڈ جسم میں پیورین نامی مادوں کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔ بہت سے افراد کا یورک ایسڈ زیادہ ہوتا ہے، لیکن انہیں کبھی گاؤٹ نہیں ہوتا۔ گاؤٹ یوریٹ کے باریک کرسٹل جمع ہونے سے پیدا ہونے والی سوزشی بیماری ہے؛ یہ عموماً جوڑوں، اور کبھی کنڈروں یا برسہ جیسی بافتوں کو متاثر کرتی ہے۔ حملے میں جوڑ اچانک شدید درد، سوجن، سرخی اور گرمی کا شکار ہو سکتا ہے، خاص طور پر پاؤں کا انگوٹھا۔ حملے کے دوران یورک ایسڈ کی نارمل رپورٹ گاؤٹ کو مکمل طور پر رد نہیں کرتی۔ [1]
بات کو آسانی سے سمجھیں
صرف یورک ایسڈ زیادہ ہونا گاؤٹ کی تشخیص نہیں ہے۔
عام وجوہات
- گرم اور سوجا ہوا جوڑ خطرناک بھی ہو سکتا ہے
کسی جوڑ میں پہلی بار اچانک شدید درد، گرمی اور سوجن ہو تو جلد معائنہ کروائیں۔ جوڑ کا بیکٹیریائی انفیکشن (سیپٹک آرتھرائٹس) گاؤٹ جیسا لگ سکتا ہے، اور بخار کے بغیر بھی موجود ہو سکتا ہے۔ جوڑ پر وزن نہ ڈال سکنا، بخار، شدید کمزوری، مصنوعی جوڑ یا کمزور قوتِ مدافعت کی صورت میں فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔ بعض مریضوں میں جوڑ سے پانی نکال کر انفیکشن اور کرسٹل کی جانچ کی جاتی ہے۔ [1][2] - خوراک میں کیا تبدیلی مفید ہے؟
گاؤٹ کے مریضوں کو الکحل، بہت زیادہ پیورین والی غذاؤں اور فروکٹوز والے میٹھے مشروبات کو محدود کرنے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ وزن زیادہ ہو تو بتدریج کمی کریں۔ اگر ڈاکٹر نے پانی محدود نہیں کیا تو مناسب مقدار میں پانی پئیں۔ متوازن غذا میں سبزیاں، دالیں اور قابلِ برداشت کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات شامل کی جا سکتی ہیں؛ ٹھوس ثبوت کے بغیر کسی پوری غذائی قسم کو ممنوع نہ بنائیں۔ صرف غذا سے یورک ایسڈ میں عموماً محدود کمی آتی ہے؛ ضرورت پڑنے پر دوا کا بدل نہیں۔ زیادہ مقدار میں وٹامن سی سپلیمنٹ کو گاؤٹ کا معیاری علاج نہ سمجھیں۔ [1] - یورک ایسڈ کم کرنے والی دوا کب دی جاتی ہے؟
بار بار گاؤٹ کے حملوں، ٹوفائی (یوریٹ کی گانٹھوں) یا گاؤٹ سے جوڑ کو نقصان پہنچنے پر ڈاکٹر ایلوپیورینول جیسی یورک ایسڈ کم کرنے والی دوا تجویز کر سکتا ہے۔ امریکن کالج آف ریومیٹولوجی کی 2020 کی رہنمائی کے مطابق ایسے مریضوں میں خون کے یورک ایسڈ کو 6 mg/dL سے کم رکھنے کا ہدف اہم ہے۔ ایلوپیورینول عموماً کم مقدار سے شروع کر کے آہستہ بڑھائی جاتی ہے، اور گردوں کی حالت سمیت دوسرے خطرات دیکھے جاتے ہیں۔ علاج شروع کرنے کے دوران حملوں سے بچاؤ کی دوا بھی دی جا سکتی ہے۔ [1]
فوراً کب توجہ دینی ہے
ان علامات میں فوراً مدد لیں
اے سی آر کی رہنمائی کے مطابق اگر یورک ایسڈ کم کرنے کا علاج واقعی ضروری ہو تو فعال حملے کے دوران بھی، حملے کے مناسب علاج اور مریض سے مشاورت کے ساتھ، دوا شروع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے ہر صورت حملہ ختم ہونے تک انتظار کرنا لازم نہیں۔ اگر پہلے سے یورک ایسڈ کم کرنے والی دوا چل رہی ہے تو صرف حملہ ہونے پر خود سے بند نہ کریں۔ حملے کے لیے این ایس اے آئی ڈیز، کولچیسین یا سٹیرائڈز کا انتخاب گردوں، خون بہنے کے خطرے، ذیابیطس اور دوسری بیماریوں کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ [1]
ڈاکٹر کن باتوں کی جانچ کرتا ہے
کسی جوڑ میں پہلی بار اچانک شدید درد، گرمی اور سوجن ہو تو جلد معائنہ کروائیں۔ جوڑ کا بیکٹیریائی انفیکشن (سیپٹک آرتھرائٹس) گاؤٹ جیسا لگ سکتا ہے، اور بخار کے بغیر بھی موجود ہو سکتا ہے۔ جوڑ پر وزن نہ ڈال سکنا، بخار، شدید کمزوری، مصنوعی جوڑ یا کمزور قوتِ مدافعت کی صورت میں فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔ بعض مریضوں میں جوڑ سے پانی نکال کر انفیکشن اور کرسٹل کی جانچ کی جاتی ہے۔ [1][2]
روزمرہ میں کیا کریں
- شراب، پیورین والی خوراک، میٹھے مشروبات کم کریں۔
- کافی پانی پئیں۔
- آہستہ آہستہ وزن کم کریں۔
اپنے ڈاکٹر سے یہ سوال پوچھیں
- میرا یورک ایسڈ زیادہ ہے لیکن درد نہیں — علاج؟
- گاؤٹ میں کون سی خوراک سے پرہیز؟
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
نہیں — بہت سے لوگوں میں یورک ایسڈ زیادہ ہوتا ہے بغیر گاؤٹ کے۔
خوراک مددگار ہے لیکن دوا کی جگہ نہیں لے سکتی۔
معتبر حوالہ جات
American College of Rheumatology: Gout Guideline (2020)
اس مضمون کا بنیادی حوالہ۔
- American College of Rheumatology: Gout Guideline (2020)
- NICE NG219: Gout diagnosis, including septic arthritis differential
صرف وہ تحریریں ڈاکٹر عمر کے طبی جائزے سے گزری ہیں جن پر Reviewed ✓ اور تاریخ درج ہے۔
اس مضمون کا جائزہ کیسے لیا گیا
- تحریر: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس — اکتوبر 2026
- طبی جائزہ: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس نے مکمل کیا — اکتوبر 2026۔
- کوئی غلطی نظر آئی؟ ای میل پر ڈاکٹر عمر کو بتائیں