Ask Dr. Umer
گردوں کی صحت

گردے خراب ہونے کی علامات — 10 انتباہی نشانیاں نظر انداز نہ کریں

یہ مضمون ایپ میں کھولیں

مختصر جواب

آپ کے گردے دن رات خاموشی سے خون صاف کرتے ہیں، جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن رکھتے ہیں، بلڈ پریشر کنٹرول کرتے ہیں اور خون کے سرخ خلیے بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن اس مرض کی سب سے ظالم بات یہ ہے کہ گردوں کی دائمی بیماری (CKD) شروع میں عموماً کوئی علامت ظاہر نہیں کرتی؛ نقصان آہستہ آہستہ بڑھتا رہتا ہے اور مریض بالکل ٹھیک محسوس کرتا ہے۔ جب تھکاوٹ، سوجن یا سانس پھولنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں تو مرض اکثر کافی آگے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر اسے "خاموش" مرض کہتے ہیں۔ پاکستان میں شوگر اور ہائی بلڈ پریشر — جو گردے خراب ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں — بہت عام ہیں اور اکثر بے قابو رہتے ہیں۔

بات کو آسانی سے سمجھیں

آپ کے گردے دن رات خاموشی سے خون صاف کرتے ہیں، جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن رکھتے ہیں، بلڈ پریشر کنٹرول کرتے ہیں اور خون کے سرخ خلیے بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن اس مرض کی سب سے ظالم بات یہ ہے کہ گردوں کی دائمی بیماری (CKD) شروع میں عموماً کوئی علامت ظاہر نہیں کرتی؛ نقصان آہستہ آہستہ بڑھتا رہتا ہے اور مریض بالکل ٹھیک محسوس کرتا ہے۔ جب تھکاوٹ، سوجن یا سانس پھولنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں تو مرض اکثر کافی آگے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر اسے "خاموش" مرض کہتے ہیں۔ پاکستان میں شوگر اور ہائی بلڈ پریشر — جو گردے خراب ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں — بہت عام ہیں اور اکثر بے قابو رہتے ہیں۔ ایسے میں انتباہی علامات پہچاننا اور دو آسان ٹیسٹ کروا لینا، معمولی علاج اور ڈائیلاسز کے درمیان فرق ثابت ہو سکتا ہے۔

عام وجوہات

  • 1شروع میں اکثر کوئی احساس نہیں ہوتا۔
    نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن کے مطابق گردے کی بیماری والے بہت سے افراد میں کوئی علامت نہیں ہوتی، اور کچھ میں اتنی ہلکی علامات ہوتی ہیں جنہیں نظر انداز کر دینا آسان ہے — لیکن جتنی جلدی مرض پکڑا جائے، نقصان روکنے یا سست کرنے کے امکانات اتنے ہی بہتر ہوتے ہیں (NKF — گردے کی بیماری کی 10 علامات)۔
  • 2NKF کی بتائی 10 انتباہی علامات:
    جھاگ دار پیشاب، پیشاب میں خون، معمول سے زیادہ پیشاب آنا، ٹخنوں اور پیروں کی سوجن، تھکاوٹ یا توانائی کی کمی، نیند میں خلل، آنکھوں کے گرد سوجن، بھوک کم لگنا، خشک اور خارش والی جلد، اور پٹھوں میں کھنچاؤ (NKF — گردے کی بیماری کی 10 علامات)۔ صرف ایک علامت کا مطلب گردے کی بیماری نہیں — لیکن ہر علامت ڈاکٹر سے رجوع کا تقاضا کرتی ہے۔
  • 3سب سے زیادہ خطرہ کن کو ہے؟
    ٹائپ 1 یا ٹائپ 2 شوگر، ہائی بلڈ پریشر، 60 سال یا زائد عمر، اور جن کے خاندان میں گردے فیل ہونے کی تاریخ ہو۔ NKF ایسے افراد کو ہر سال ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیتی ہے (NKF رہنمائی)۔
  • 4دو آسان ٹیسٹ اسے پکڑ لیتے ہیں:
    خون کا eGFR ٹیسٹ (گردے کتنی اچھی طرح فلٹر کر رہے ہیں) اور پیشاب کا البومن ٹیسٹ — پیشاب میں پروٹین آنا نقصان کی ابتدائی نشانی ہے (NKF — گردے کی بیماری کی 10 علامات)۔ اگر آپ کی رپورٹ میں eGFR کے بجائے سیرم کریٹینائن درج ہو تو ہمارا کریٹینائن کلیئرنس کیلکولیٹر استعمال کر کے گردوں کی کارکردگی کا اندازہ لگائیں۔
  • 5ڈاکٹر اس کی درجہ بندی کیسے کرتے ہیں (KDIGO):
    گردے کو نقصان یا 3 ماہ یا زیادہ عرصے تک eGFR کا 60 سے کم رہنا CKD کہلاتا ہے۔ درجے یہ ہیں: G1 (eGFR 90 یا زیادہ، نارمل) → G2 (60 تا 89) → G3a (45 تا 59) → G3b (30 تا 44) → G4 (15 تا 29) → G5 (15 سے کم — گردے فیل) (KDIGO درجہ بندی)۔ ایک بار کا کم ریڈنگ حتمی نہیں — eGFR میں قدرتی اتار چڑھاؤ ہوتا ہے اور عمر کے ساتھ کچھ کمی فطری ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ آپ کا اپنا نمبر کس درجے میں آتا ہے، ہمارا ای جی ایف آر کیلکولیٹر آزمائیں۔
  • 6آخری مراحل کی علامات
    میں توجہ مرکوز نہ کر پانا، ہاتھوں پیروں میں سنسناہٹ یا سوجن، پٹھوں میں درد، سانس پھولنا، متلی، قے، اور منہ سے امونیا جیسی بو شامل ہیں (NKF جائزہ)۔ گردے کی بیماری دل کی بیماری اور فالج کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہے۔
  • 7پاکستان کے حالات:
    بے قابو شوگر اور بلڈ پریشر عام ہیں، درد کی دواؤں (NSAIDs) کا خود سے استعمال معمول ہے، اور معمول کا اسکریننگ ٹیسٹ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے — یہ خاموش گردے کے نقصان کے لیے بہترین ماحول ہے۔ نمکین غذا اور میٹھے مشروبات بوجھ مزید بڑھا دیتے ہیں۔

فوراً کب توجہ دینی ہے

ان علامات میں فوراً مدد لیں

ایک دن میں بہت کم یا بالکل پیشاب نہ آنا، یا چہرے/ٹانگوں کی اچانک شدید سوجن کے ساتھ سانس پھولنا — فوری طبی مدد لیں؛ سانس پھولنے یا سینے میں درد پر 1122 پر کال کریں۔

ایمرجنسی؟ ابھی کال کریںPakistan 1122 · USA/Canada 911 · UK 999 · Europe 112 · Australia 000

روزمرہ میں کیا کریں

  • ✓اگر آپ کو شوگر یا ہائی بلڈ پریشر ہے تو ہر سال گردوں کے دونوں ٹیسٹ (eGFR + پیشاب میں البومن) ضرور کروائیں — چاہے آپ بالکل ٹھیک محسوس کریں۔ اس مضمون کا سب سے اہم پیغام یہی ہے (NKF — گردے کی بیماری کی 10 علامات)۔
  • ✓دو بڑی وجوہات پر قابو پائیں: شوگر اور بلڈ پریشر کو ڈاکٹر کے بتائے اہداف میں رکھیں۔ یہی دو بیماریاں دنیا بھر میں گردے فیل ہونے کی بڑی وجہ ہیں۔
  • ✓درد کی دوائیں خود سے نہ کھائیں۔ بغیر مشورے کے NSAID درد کش ادویات کا بار بار استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ڈاکٹر کو ضرور بتائیں کہ آپ کون سی دوائیں، جڑی بوٹیاں یا دیسی نسخے استعمال کرتے ہیں۔
  • ✓نمک کم کریں، مناسب پانی پئیں، سگریٹ نہ پئیں، اور وزن متوازن رکھیں — یہ سب گردوں کا بوجھ کم کرتے ہیں۔
  • ✓انتباہی علامات کو نظر انداز نہ کریں۔ جھاگ دار یا خون آلود پیشاب، پیروں/ٹخنوں یا آنکھوں کے گرد نئی سوجن، اور غیر معمولی مستقل تھکاوٹ — ہر ایک فوری کلینک وزٹ اور پیشاب کے ٹیسٹ کی متقاضی ہے، مہینوں انتظار کی نہیں۔
  • ✓اگر eGFR کم بتایا جائے تو ایک نمبر پر گھبرائیں نہیں — چند ماہ بعد ٹیسٹ دہرائیں اور پیشاب میں پروٹین بھی چیک کروائیں؛ درجہ بندی مستقل نتائج پر ہوتی ہے (KDIGO درجہ بندی)۔ ابتدائی مراحل میں علاج بنیادی طور پر نگرانی اور بلڈ پریشر و شوگر کے کنٹرول پر مشتمل ہوتا ہے — ذاتی منصوبے کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں؛ یہاں کوئی خوراک یا نسخہ نہیں دیا گیا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

گردے خراب ہونے کی علامات کیا ہیں؟

— شروع میں عموماً کوئی نہیں — یہی خطرہ ہے۔ بعد میں جھاگ دار یا خون آلود پیشاب، پیروں/ٹخنوں کی سوجن، صبح آنکھوں کے گرد پھولنا، غیر معمولی تھکاوٹ، جلد میں خارش اور بھوک کم لگنا ظاہر ہو سکتا ہے۔ یقینی طریقہ eGFR خون کا ٹیسٹ اور پیشاب میں پروٹین کا ٹیسٹ ہے۔

کیا گردے کی بیماری کا علاج ممکن ہے؟

— دائمی گردے کی بیماری عموماً مکمل ٹھیک نہیں ہوتی، لیکن جلد پتہ چلنے اور شوگر و بلڈ پریشر کے کنٹرول سے مزید نقصان سست یا روکا جا سکتا ہے۔ اسی لیے خطرے والے افراد کا سالانہ ٹیسٹ اتنا اہم ہے۔

میرا کریئٹینائن تھوڑا زیادہ ہے — کیا میرے گردے فیل ہو گئے؟

— ضروری نہیں۔ ایک کریئٹینائن ویلیو کو eGFR میں بدلا جاتا ہے (جس میں عمر اور جنس شامل ہوتی ہے) اور چند ماہ بعد دہرایا جاتا ہے؛ ایک ہلکی زیادہ ریڈنگ تشخیص نہیں۔ ڈاکٹر سے eGFR اور پیشاب میں البومن کا ٹیسٹ کروائیں۔

کیا درد کی دوائیں گردوں کو نقصان پہنچاتی ہیں؟

— بغیر مشورے کے NSAID درد کش ادویات کا بار بار استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، خاص طور پر شوگر، ہائی بلڈ پریشر یا پہلے سے گردے کی بیماری والوں میں۔ ڈاکٹر کے علم کے بغیر انہیں مستقل نہ کھائیں۔

گردے کے مریض کو کیا کھانا چاہیے؟

— سب کے لیے ایک "گردے کی غذا" نہیں ہوتی — یہ آپ کے مرحلے اور خون کی رپورٹوں (پوٹاشیم، پروٹین کی ضرورت مختلف ہوتی ہے) پر منحصر ہے۔ ڈاکٹر یا ڈائٹیشن سے ذاتی منصوبہ بنوائیں؛ عمومی مشورہ ہے نمک کم کریں اور خود سے "گردے صاف کرنے والے" جڑی بوٹیوں کے نسخوں سے پرہیز کریں۔

شوگر کے مریض کو گردوں کے ٹیسٹ کتنی بار کروانے چاہئیں؟

— سال میں کم از کم ایک بار eGFR اور پیشاب میں البومن دونوں ٹیسٹ، نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن کی ہدایت کے مطابق — چاہے کوئی علامت نہ ہو (NKF رہنمائی)۔

معتبر حوالہ جات

بنیادی ماخذ

نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن
شروع میں اکثر کوئی احساس نہیں ہوتا۔

  • NKF — 10 warning signs of kidney disease: https://www.kidney.org/kidney-topics/signs-and-symptoms-kidney-disease
  • NKF — CKD risk factors, testing and prevention: https://www.kidney.org/kidney-topics/risk-factors-chronic-kidney-disease
  • StatPearls / KDIGO classification: https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/30571025/

صرف وہ تحریریں ڈاکٹر عمر کے طبی جائزے سے گزری ہیں جن پر Reviewed ✓ اور تاریخ درج ہے۔

اس مضمون کا جائزہ کیسے لیا گیا

  • تحریر: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس — اکتوبر 2026
  • طبی جائزہ: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس نے مکمل کیا — اکتوبر 2026۔
  • کوئی غلطی نظر آئی؟ ای میل پر ڈاکٹر عمر کو بتائیں
ورژن 1.0 · آخری اپڈیٹ 21 اکتوبر 2026
ورژن کی تاریخ
ورژنتاریخکیا تبدیلی ہوئی
v1.021 اکتوبر 2026پہلی اشاعت — 20 مضامین کے صحت بیچ کا حصہ، جسے ڈاکٹر عمر نے 20 اکتوبر 2026 کو منظور کیا تھا (درستگیاں اشاعت سے پہلے لگائی گئیں)۔