پاکستان میں پولیو: عالمی یومِ پولیو پر کیا ہوا، اور نومبر کی مہم میں کیا ہوگا
اس مضمون میں کوئی طبی مشورہ نہیں ہے — یہ پروگرام کی معلومات اور شائع شدہ ذرائع کی خبر دیتا ہے۔ کسی بچے کے بارے میں سوال ہو تو اپنے ڈاکٹر یا قریبی ویکسینیشن مرکز سے پوچھیں۔
عالمی یومِ پولیو 24 اکتوبر 2026 کو منایا گیا، اور پاکستان میں چار لاکھ سے زیادہ فرنٹ لائن ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ 2026 میں اب تک سات پولیو کیسز ہو چکے ہیں، تازہ ترین کراچی ایسٹ کا چھ ماہ کا بچہ۔ نومبر کی مہم 2 سے 8 نومبر تک 97 اضلاع میں 23.9 ملین سے زیادہ بچوں کو ویکسین دے گی۔ اس مضمون میں دو پرانی افواہوں — بانجھ پن اور حرام اجزا — کے دستاویزی جواب بھی ہیں: لیب ٹیسٹ اور فقہی اعلامیہ۔
وہ دن
عالمی یومِ پولیو 24 اکتوبر 2026، بروز ہفتہ منایا گیا۔ روٹری انٹرنیشنل کا عالمی پیغام تھا: "One Day. One Focus: Ending Polio"۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے پروگرام نے اس دن کو اپنے عنوان "شکریہ پولیو فرنٹ لائن ورکرز" کے ساتھ منایا، اور ملک بھر کے چار لاکھ سے زیادہ فرنٹ لائن ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کیا — پروگرام کے مطابق ان میں ساٹھ فیصد سے زیادہ خواتین ہیں۔
یہ خراج اس لیے اہم ہے کہ کام ابھی ختم نہیں ہوا۔ پاکستان میں پولیو کے کیسز 1990 کی دہائی کے اوائل میں تقریباً 20 ہزار سے کم ہو کر 2025 میں 31 رہ گئے — اور 2026 میں اب تک سات ہو چکے ہیں۔
نومبر کی مہم
پاکستان کی 2026 کی تیسری ذیلی قومی پولیو مہم 2 سے 8 نومبر تک ہوگی، 97 اضلاع میں، جس کا ہدف پانچ سال سے کم عمر کے 23.9 ملین سے زیادہ بچوں کو ویکسین دینا ہے۔ فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر ہر اہل بچے کو ویکسین کے قطرے پلائیں گے۔
اگر اس ہفتے آپ کے دروازے پر ٹیم آئے تو یہی وہ مہم ہے۔ اگر آپ منتخب اضلاع سے باہر رہتے ہیں تو آپ کے بچے کی حفاظت معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول سے ہے — مہم اس کی جگہ نہیں لیتی۔
اس ہفتے کی تشویشناک خبر: کراچی کا کیس
19 اکتوبر کو نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (NEOC) نے 2026 کا پاکستان کا ساتواں پولیو کیس کنفرم کیا: کراچی ایسٹ کی یونین کونسل جمالی کالونی کا چھ ماہ کا بچہ، جس کی تصدیق اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے کی۔
اس سال کے سات کیسز میں سے پانچ خیبر پختونخوا سے اور دو سندھ سے ہیں۔ کراچی کا اس سے پہلا کیس دسمبر 2024 میں رپورٹ ہوا تھا — تقریباً دو سال پہلے۔ پروگرام کے مطابق اس کیس کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، اور جواب میں ٹارگٹڈ ویکسینیشن اور معمول کے حفاظتی ٹیکوں کو مضبوط کرنے پر غور ہو رہا ہے۔
پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے۔ یہ زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے، اور تقریباً ہر 200 میں سے ایک انفیکشن ناقابلِ واپسی فالج کا سبب بنتا ہے۔ اسی لیے کسی بڑے شہر میں ایک کیس بھی خطرے کی گھنٹی سمجھا جاتا ہے، محض ایک عدد نہیں۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ملک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس ابھی موجود ہے۔
افواہ 1: "قطرے بانجھ کر دیتے ہیں"
یہ سب سے پرانی گردش کرنے والی افواہ ہے، اور اس کا جواب لیبارٹری سے آیا ہے۔ پاکستان کے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) نے اورل پولیو ویکسین کے نمونے ایک آزاد لیبارٹری، نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولوجیکلز، کو بھیجے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا ان میں ایسے انسانی ہارمونز ہیں جو بچوں میں آگے چل کر بانجھ پن پیدا کریں۔
نتیجہ، جنوری 2015 میں ایکسپریس ٹریبیون میں رپورٹ ہوا: ویکسین میں ایسا کوئی مواد نہیں جو زرخیزی کو نقصان پہنچا سکے، اور جانچے گئے چھ ہارمونز میں سے کوئی بھی دو قطروں کی خوراک میں 0.0005 ملی گرام کی انتہائی کم سطح پر بھی نہیں ملا۔ یہ خدشہ 2004 سے پھیلایا جا رہا تھا، اور سابقہ فاٹا، خیبر پختونخوا اور سندھ کے بعض علاقوں میں انکار کی ایک بڑی وجہ بن گیا تھا۔ لیب ٹیسٹ اسی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
عالمی ادارہ صحت اورل پولیو ویکسین کو محفوظ اور مؤثر قرار دیتا ہے، اور اس سے دنیا بھر میں ڈھائی ارب سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی جا چکی ہے۔ کسی بھی طبی پروڈکٹ کی طرح انتہائی نادر مضر اثرات ریکارڈ ہوتے ہیں — WHO کے مطابق ویکسین سے وابستہ فالج کا امکان تقریباً 27 لاکھ خوراکوں میں ایک ہے — جو اس افواہ کے دعوے سے بالکل مختلف بات ہے کہ قطرے بانجھ پن پیدا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
افواہ 2: "ویکسین حرام ہے"
اس کا مذہبی جواب بھی ریکارڈ پر ہے، دو سطحوں پر۔ تنظیمِ اسلامی تعاون کی انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی نے پولیو ویکسینیشن کے واجب ہونے پر اعلامیہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ استعمال ہونے والی ویکسینز میں سور کی کوئی مصنوعات نہیں ہیں، ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ ان میں لڑکیوں میں آگے چل کر بانجھ پن پیدا کرنے والا کوئی ایجنٹ نہیں ہے، اور ویکسینیشن شریعت کا حکم کردہ فرض ہے — جو سرپرستوں کے سپرد ایک امانت ہے۔
پاکستانی علماء نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے، جن میں دارالعلوم حقانیہ کے مولانا سمیع الحق شامل ہیں، اور اس کی تائید جون 2014 کے اسلام آباد اعلامیے، پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل، اور تنظیمِ اسلامی تعاون کے تحت قائم اسلامک ایڈوائزری گروپ نے کی ہے۔
افواہیں اب بھی کیوں چلتی ہیں؟
مئی 2026 میں منٹ مرر کے ایک تجزیے نے سیدھی بات کہی: فیس بک، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک پر پھیلی غلط معلومات نے والدین کے رویوں پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس سے ویکسین سے ہچکچاہٹ اور چھوٹ جانے والی ویکسینیشن بڑھی ہے۔ ایک فارورڈ شدہ پیغام چند گھنٹوں میں ہزاروں بار آگے بھیجا جا سکتا ہے — کسی بھی تصحیح سے کہیں تیز۔
اسی رفتار کی وجہ سے یہ مضمون عالمی یومِ پولیو پر لکھا گیا ہے، اور اسی وجہ سے مختصر ویڈیو میں بھی وہی دو جواب ہیں: لیب ٹیسٹ اور فتویٰ۔ دونوں جواب نئے نہیں ہیں۔ دونوں دستاویزی ہیں۔ افواہیں اس لیے زندہ ہیں کہ وہ دستاویزات سے تیز سفر کرتی ہیں۔
مہم کے ہفتے میں کیا کرنا ہے
- اگر آپ 97 اضلاع میں سے کسی میں رہتے ہیں تو 2 سے 8 نومبر کے درمیان ٹیم کی آمد متوقع رکھیں، اور بچے کا ویکسینیشن ریکارڈ تیار رکھیں۔
- اگر ٹیم آپ کے گھر نہ پہنچے تو پروگرام کی ٹول فری ہیلپ لائن 1166 درج ہے، جس پر مدد لی جا سکتی ہے اور چھوٹ جانے والی ٹیم کی اطلاع دی جا سکتی ہے۔
- معمول کے حفاظتی ٹیکے مہم کے ساتھ ساتھ جاری رہتے ہیں؛ مہم کی خوراک معمول کے شیڈول کی جگہ نہیں لیتی۔
ذرائع
- ڈان، 24 اکتوبر 2026
- ایکسپریس ٹریبیون، 20 اکتوبر 2026
- ایکسپریس ٹریبیون، 19 اکتوبر 2026
- جیو نیوز، اکتوبر 2026
- بزنس ریکارڈر، اکتوبر 2026
- ایکسپریس ٹریبیون، 13 جنوری 2015
- انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی کا اعلامیہ (polioeradication.org آرکائیو)
- اینڈ پولیو پاکستان پروگرام پیج
- منٹ مرر، 28 مئی 2026
- WHO پولیو فیکٹ شیٹ
- WHO افریقہ ریجن، عالمی یومِ پولیو 2026 پیغام
صرف وہ تحریریں ڈاکٹر عمر کے طبی جائزے سے گزری ہیں جن پر Reviewed ✓ اور تاریخ درج ہے۔
اس مضمون کا جائزہ کیسے لیا گیا
- تحریر: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس — اکتوبر 2026
- طبی جائزہ: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس نے مکمل کیا — اکتوبر 2026۔
- کوئی غلطی نظر آئی؟ ای میل پر ڈاکٹر عمر کو بتائیں