Ask Dr. Umer
بچوں کی صحت

نومولود بچے کی دیکھ بھال — دودھ، خطرے کی علامات اور ویکسین رہنمائی

یہ مضمون ایپ میں کھولیں

مختصر جواب

بچے کی زندگی کا پہلا مہینہ — نوزائیدہ دور — وہ وقت ہے جب بچہ سب سے زیادہ نازک ہوتا ہے۔ نومولود بتا نہیں سکتا کہ اسے کیا تکلیف ہے؛ اس کے صرف چند اشارے ہوتے ہیں: دودھ کم پینا، تیز سانس لینا، بہت ٹھنڈا یا بہت گرم محسوس ہونا، یا غیر معمولی طور پر ساکت ہو جانا۔ پاکستان میں جہاں آج بھی بہت سی ڈیلیوریاں گھر پر ہوتی ہیں اور نقصان دہ روایتی طریقے (ناف پر تیل، سرمہ یا راکھ لگانا؛ گھٹی یا پانی پلانا) رائج ہیں، وہاں سادہ سائنسی دیکھ بھال زندگیاں بچاتی ہے: بچے کو ماں کی جلد سے لگا کر گرم رکھیں، صرف ماں کا دودھ پلائیں، ناف کو صاف اور خشک رکھیں، اور خطرے کی علامات پہچانیں۔ اس مضمون میں پہلے 28 دنوں کی بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں۔

بات کو آسانی سے سمجھیں

بچے کی زندگی کا پہلا مہینہ — نوزائیدہ دور — وہ وقت ہے جب بچہ سب سے زیادہ نازک ہوتا ہے۔ نومولود بتا نہیں سکتا کہ اسے کیا تکلیف ہے؛ اس کے صرف چند اشارے ہوتے ہیں: دودھ کم پینا، تیز سانس لینا، بہت ٹھنڈا یا بہت گرم محسوس ہونا، یا غیر معمولی طور پر ساکت ہو جانا۔ پاکستان میں جہاں آج بھی بہت سی ڈیلیوریاں گھر پر ہوتی ہیں اور نقصان دہ روایتی طریقے (ناف پر تیل، سرمہ یا راکھ لگانا؛ گھٹی یا پانی پلانا) رائج ہیں، وہاں سادہ سائنسی دیکھ بھال زندگیاں بچاتی ہے: بچے کو ماں کی جلد سے لگا کر گرم رکھیں، صرف ماں کا دودھ پلائیں، ناف کو صاف اور خشک رکھیں، اور خطرے کی علامات پہچانیں۔ اس مضمون میں پہلے 28 دنوں کی بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں۔

عام وجوہات

  • 1پہلے 6 ماہ صرف ماں کا دودھ پلائیں۔
    WHO 6 ماہ تک خصوصی طور پر ماں کا دودھ تجویز کرتا ہے — نہ پانی، نہ گھٹی، نہ فارمولا، نہ شہد — پیدائش کے پہلے گھنٹے سے شروع کریں۔ ماں کا دودھ اکیلا ہی تمام غذائیت اور پانی کی ضرورت پوری کرتا ہے اور انفیکشن سے بچاتا ہے (WHO رہنمائی)۔ دن رات، جتنی بار اور جتنی دیر بچہ چاہے پلائیں۔
  • 2نومولود کی خطرے کی علامات جانیں — کوئی ایک بھی ہو تو فوری اسپتال لے جائیں۔
    WHO کی خطرے کی علامات: دودھ پینا بند یا بہت کم کر دینا، جھٹکے پڑنا، تیز سانس (>60 فی منٹ)، سینے کا اندر دھنسنا، خود سے حرکت نہ کرنا، بخار (>37.5 ڈگری)، جسم کا ٹھنڈا پڑ جانا (<35.5 ڈگری)، پیدائش کے پہلے 24 گھنٹوں میں یرقان، یا کسی بھی عمر میں ہتھیلیوں اور تلووں کا پیلا ہونا (WHO جائزہ)۔ ان صورتوں میں بھی فوراً واپس آئیں: حرکت معمول سے کم ہونا، دودھ ٹھیک سے نہ پینا، غیر معمولی ٹھنڈا یا گرم محسوس ہونا، سانس میں دشواری، پاخانے میں خون، تالو کا ابھرنا، یا ناف کے گرد سرخی/پیپ (WHO چارٹ بک)۔
  • 3ناف کی دیکھ بھال: صاف اور خشک رکھیں — کچھ نہ لگائیں۔
    WHO اسپتال میں پیدا ہونے والے اور کم اموات والے علاقوں میں گھر پر پیدا ہونے والے بچوں کے لیے خشک ناف کی دیکھ بھال تجویز کرتا ہے: نہ تیل، نہ سرمہ، نہ راکھ، نہ گوبر — کچھ لگانے سے انفیکشن کا خطرہ بڑھتا ہے (تحقیقی جائزہ)۔ ناف کا ڈنٹھل خود ہی گر جاتا ہے، عموماً 1 سے 2 ہفتوں میں؛ لنگوٹ اس کے نیچے موڑیں اور ہوا لگنے دیں۔ ایک استثنا — گھر پر پیدا ہونے والے بچے: پاکستان جیسے زیادہ نومولود اموات والے علاقوں میں WHO گھر پر پیدا ہونے والے بچوں کی ناف پر کلورہیکسزیڈین لگانے کی سفارش کرتا ہے (پیدائش کے پہلے ہفتے میں روزانہ) تاکہ ناف کے انفیکشن سے حفاظت ہو — اگر آپ کا بچہ گھر پر پیدا ہوا ہو تو لیڈی ہیلتھ ورکر یا دائی سے کلورہیکسزیڈین کے بارے میں ضرور پوچھیں۔
  • 4بچے کو گرم رکھیں — جلد سے جلد ملا کر۔
    WHO کا "پہلا آغوش": پیدائش پر بچے کو اچھی طرح خشک کریں، پھر فوراً ماں کی جلد سے لگائیں — اس سے گرمی ملتی ہے، دودھ پلانے میں مدد ملتی ہے اور انفیکشن سے حفاظت ہوتی ہے (WHO بنیادی دیکھ بھال)۔ بڑوں سے ایک دو تہہ زیادہ کپڑے پہنائیں، ٹھنڈے موسم میں سر اور پاؤں ڈھانپیں، اور ماں بچہ چوبیس گھنٹے ایک ہی کمرے میں رہیں۔ پہلا غسل 24 گھنٹوں کے بعد دیں (اگر مجبوری ہو تو کم از کم 6 گھنٹے) — جلدی نہلانے سے بچے کا درجہ حرارت خطرناک حد تک گر جاتا ہے (WHO رہنمائی)۔
  • 5پاکستان کے EPI شیڈول کے مطابق ویکسین لگوائیں — سرکاری مراکز پر مفت۔
    پیدائش پر: بی سی جی، او پی وی-0، ہیپاٹائٹس بی → 6 ہفتوں پر: پینٹا-1، او پی وی-1، پی سی وی-1، روٹا-1 → 10 ہفتوں پر: دوسری خوراکیں → 14 ہفتوں پر: تیسری خوراکیں اور آئی پی وی-1 → 9 ماہ پر: خسرہ-روبیلا-1، ٹائیفائیڈ ویکسین، آئی پی وی-2 → 15 ماہ پر: خسرہ-روبیلا-2 (پاکستان EPI شیڈول)۔ یہ ٹی بی، پولیو، نمونیا، اسہال اور خسرہ سمیت 12 بیماریوں سے بچاتی ہیں۔ ویکسینیشن کارڈ سنبھال کر رکھیں۔ ایک خوراک خاص توجہ کی مستحق ہے: ہر طبی طور پر مستحکم نومولود کو ہیپاٹائٹس بی ویکسین کی پہلی، مونوویلنٹ خوراک پیدائش کے 24 گھنٹوں کے اندر ضرور ملنی چاہیے — اسپتال یا مرکز سے جانے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیں، یا گھر پر پیدائش کی صورت میں فوراً اس کا انتظام کریں۔

فوراً کب توجہ دینی ہے

ان علامات میں فوراً مدد لیں

دودھ بالکل نہ پینا، یا معمول سے بہت کم پینا — فوری۔

ایمرجنسی؟ ابھی کال کریںPakistan 1122 · USA/Canada 911 · UK 999 · Europe 112 · Australia 000

روزمرہ میں کیا کریں

  • ✓پہلے گھنٹے میں: بچے کو ماں کے سینے پر جلد سے جلد ملا کر رکھیں، اچھی طرح خشک کریں، اور جب بچہ اشارے دے (منہ چلانا، ہاتھ چوسنا) تو دودھ پلانا شروع کریں۔
  • ✓6 ماہ تک صرف ماں کا دودھ — جب بچہ مانگے، دن میں 8 سے 12 بار معمول ہے۔ نہ پانی، نہ گھٹی، نہ شہد (شہد شیر خوار بچوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے)۔ اگر دودھ پلانے میں دشواری ہو تو جلدی لیڈی ہیلتھ ورکر یا کلینک سے مدد لیں — انتظار نہ کریں۔
  • ✓ناف: صاف اور خشک رکھیں، کچھ نہ لگائیں — واحد استثنا گھر پر پیدائش کی صورت میں کلورہیکسزیڈین ہے (اوپر دیکھیں)؛ چھونے سے پہلے ہاتھ دھوئیں۔ اگر اردگرد کی جلد میں سرخی پھیلے یا پیپ نکلے تو اسی دن علاج کروائیں۔
  • ✓گرمی: پہلے دنوں میں جتنا ہو سکے جلد سے جلد ملا کر رکھیں؛ ٹھنڈے موسم میں ٹوپی اور موزے پہنائیں؛ جلدی نہ نہلائیں (24 گھنٹے انتظار کریں)۔ اگر بچہ چھونے پر ٹھنڈا لگے تو جلد سے لگا کر گرم کریں اور مشورہ لیں۔
  • ✓صفائی: بچے کو چھونے سے پہلے سب صابن سے ہاتھ دھوئیں؛ بچے کے سونے کی جگہ صاف رکھیں؛ نومولود کے چہرے/منہ پر بوسہ دینے سے پرہیز کریں (انفیکشن کا خطرہ)۔
  • ✓اوپر دیے شیڈول کے مطابق قریبی EPI مرکز یا بنیادی مرکز صحت سے ویکسین لگوائیں — مفت ہے۔ اگر کوئی خوراک چھوٹ جائے تو جتنی جلدی ہو سکے جائیں؛ ویکسینیٹر آگے کا بتائے گا۔
  • ✓ماں اور بچے دونوں کے بعد از پیدائش چیک اپ پہلے ہفتے میں ضرور کروائیں — بہت سے مسائل (یرقان، دودھ پلانے میں دشواری، ناف کا انفیکشن، ماں کا خون بہنا) دوسرے سے ساتویں دن میں ظاہر ہوتے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

نوزائیدہ بچے کو گھٹی دینی چاہیے؟

— نہیں۔ WHO پہلے 6 ماہ صرف ماں کا دودھ تجویز کرتا ہے — نہ گھٹی، نہ پانی، نہ شہد، نہ فارمولا جب تک ڈاکٹر نہ کہے۔ نومولود کا معدہ بہت چھوٹا ہوتا ہے اور ماں کا دودھ مکمل غذا ہے۔

ناف (نال) پر کیا لگائیں؟

— بیشتر بچوں کے لیے کچھ نہیں۔ صاف اور خشک رکھیں؛ تیل، سرمہ، راکھ یا کوئی روایتی چیز نہ لگائیں — ان سے انفیکشن کا خطرہ بڑھتا ہے۔ البتہ گھر پر پیدا ہونے والے بچے کے لیے ناف پر کلورہیکسزیڈین لگانے کی سفارش ہے تاکہ انفیکشن سے بچا جا سکے — اس بارے میں ہیلتھ ورکر سے پوچھیں۔ یہ خود ہی گر جاتا ہے، عموماً 1 سے 2 ہفتوں میں۔

نومولود کو کتنی بار دودھ پلانا چاہیے؟

— جب بچہ مانگے، عموماً 24 گھنٹوں میں 8 سے 12 بار، رات سمیت۔ بار بار پلانا معمول ہے اور دودھ بڑھاتا ہے۔ اگر بچہ منہ نہ لگا سکے، دودھ پیتے پیتے سو جائے، یا چوتھے پانچویں دن کے بعد گیلے لنگوٹ کم ہوں تو مدد لیں۔

میرے بچے کو یرقان (پیلا پن) ہے — کیا یہ نارمل ہے؟

— دوسرے سے چوتھے دن ہلکا یرقان عام اور اکثر بے ضرر ہوتا ہے، لیکن پہلے 24 گھنٹوں میں یرقان، یا ہتھیلیوں اور تلووں کا پیلا ہونا، فوری اسپتال جائزے کا متقاضی ہے۔ شک ہو تو اسی دن دکھا لیں۔

پہلا غسل کب دینا چاہیے؟

— WHO 24 گھنٹوں کے بعد پہلا غسل تجویز کرتا ہے (کم از کم 6 گھنٹے)۔ جلدی نہلانے سے بچے کا درجہ حرارت خطرناک حد تک گر جاتا ہے۔ ناف گرنے تک صرف اسفنج سے صاف کریں۔

پاکستان میں نومولود کو کون سی ویکسین لگتی ہے؟

— پیدائش پر: بی سی جی (ٹی بی)، پولیو کے قطرے، اور ہیپاٹائٹس بی — پھر اوپر دیے شیڈول کے مطابق 6/10/14 ہفتوں، 9 ماہ اور 15 ماہ کی ملاقاتیں۔ سرکاری EPI مراکز پر سب مفت (پاکستان EPI شیڈول)۔ ہیپاٹائٹس بی کی خوراک پیدائش کے پہلے 24 گھنٹوں کے اندر دینی چاہیے۔

معتبر حوالہ جات

بنیادی ماخذ

WHO IMNCI counselling guidance
پہلے 6 ماہ صرف ماں کا دودھ پلائیں۔

  • WHO IMNCI counselling guidance: https://platform.who.int/docs/default-source/mca-documents/policy-documents/operational-guidance/zwe-ch-14-01-operationalguidance-2016-eng-imnci-chart-booklet.pdf
  • WHO newborn danger signs review: https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC5078951/
  • WHO cord-care evidence review: https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC6953818/
  • WHO essential newborn care: https://www.who.int/frenchpolynesia/news/detail-wpro/15-01-2019-who-recommended-newborn-care-cuts-life-threatening-infections-by-two-thirds
  • WHO postnatal cord-care guidance: https://jesse.tg/ngc-archive/summary/10309
  • Pakistan EPI schedule guide: http://www.emro.who.int/pak/programmes/expanded-programme-immunization.html

صرف وہ تحریریں ڈاکٹر عمر کے طبی جائزے سے گزری ہیں جن پر Reviewed ✓ اور تاریخ درج ہے۔

اس مضمون کا جائزہ کیسے لیا گیا

  • تحریر: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس — اکتوبر 2026
  • طبی جائزہ: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس نے مکمل کیا — اکتوبر 2026۔
  • کوئی غلطی نظر آئی؟ ای میل پر ڈاکٹر عمر کو بتائیں
ورژن 1.0 · آخری اپڈیٹ 21 اکتوبر 2026
ورژن کی تاریخ
ورژنتاریخکیا تبدیلی ہوئی
v1.021 اکتوبر 2026پہلی اشاعت — 20 مضامین کے صحت بیچ کا حصہ، جسے ڈاکٹر عمر نے 20 اکتوبر 2026 کو منظور کیا تھا (درستگیاں اشاعت سے پہلے لگائی گئیں)۔