ایچ بی اے ون سی 6.0 فیصد: کیا پریشان ہونا چاہیے؟
یہ نتیجہ ذیابیطس کی تشخیص نہیں، بلکہ بروقت احتیاط کا موقع ہے۔ زیادہ تر غیر حاملہ بالغ افراد میں ایچ بی اے ون سی (HbA1c) کی 5.7 سے 6.4 فیصد قدر پری ڈایابیٹیز کی حد میں آتی ہے۔ 6.5 فیصد یا اس سے زیادہ نتیجہ مناسب ٹیسٹ اور ضرورت کے مطابق دوبارہ تصدیق کے بعد ذیابیطس کی تشخیص کا معیار بن سکتا ہے۔ اس لیے 6.0 فیصد نتیجہ خطرے میں اضافے کی علامت ہے، خود ذیابیطس کی تشخیص نہیں۔ اس کے مطابق اندازاً اوسط شوگر 126 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر بنتی ہے، لیکن یہ روزے کی حالت میں ناپی گئی شوگر نہیں۔ [1]
بات کو آسانی سے سمجھیں
یہ نتیجہ ذیابیطس کی تشخیص نہیں، بلکہ بروقت احتیاط کا موقع ہے۔
عام وجوہات
- ہر مریض میں نتیجہ ایک جیسا قابلِ اعتماد نہیں
خون کی کمی، خون کے سرخ خلیوں کی عمر بدلنے والی بیماریوں، ہیموگلوبن کی بعض موروثی اقسام، حالیہ خون لگنے یا حمل میں HbA1c کا نتیجہ گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ اگر یہ نتیجہ اور خون میں براہِ راست ناپی گئی شوگر ایک دوسرے سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو ڈاکٹر روزے کی حالت میں شوگر یا 75 گرام او جی ٹی ٹی ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔ واضح شدید ہائپرگلیسیمیا نہ ہونے پر ذیابیطس کی تشخیص عموماً دوبارہ تصدیق مانگتی ہے۔ [1] - اب کیا کرنا چاہیے؟
اگر وزن زیادہ ہے تو مستقل طور پر تقریباً 5 سے 7 فیصد وزن کم کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ ذیابیطس سے بچاؤ کے منظم پروگرام عموماً کم از کم 7 فیصد وزن میں کمی اور ہفتے میں 150 منٹ معتدل جسمانی سرگرمی کا ہدف رکھتے ہیں۔ سبزیاں، مناسب مقدار میں ثابت اناج، دالیں اور صحت بخش غذائیں بڑھائیں؛ میٹھے مشروبات کم کریں۔ اصل ڈی پی پی تحقیق میں مخصوص زیادہ خطرے والے افراد کے ایک گروہ میں منظم طرزِ زندگی پروگرام سے ذیابیطس کے نئے کیسز میں نسبتاً 58 فیصد کمی دیکھی گئی؛ ہر فرد کے لیے اس کی ضمانت نہیں۔ [2][3] - خطرہ کتنا ہے؟
ژانگ اور ساتھیوں کے 2010 کے منظم جائزے میں 16 مطالعات اور 44,203 شرکا شامل تھے۔ جن آبادیوں کا مطالعہ کیا گیا، ان میں HbA1c تقریباً 6.0 سے 6.5 فیصد ہونے پر پانچ برسوں میں ذیابیطس کے نئے کیسز کا تخمینہ تقریباً 25 سے 50 فیصد تھا، مگر مختلف گروہوں میں نمایاں فرق تھا۔ اسے پاکستان میں کسی ایک مریض کے لیے یقینی پیش گوئی نہ سمجھیں۔ اپنے ڈاکٹر سے فالو اَپ اور دوسرے قلبی خطرات کی جانچ کا منصوبہ بنائیں۔ [4]
فوراً کب توجہ دینی ہے
ان علامات میں فوراً مدد لیں
شدید پیاس، بار بار پیشاب، بلاوجہ وزن کم ہونا یا ناپی گئی شوگر مسلسل زیادہ ہونا ڈاکٹر کو دکھانے کی وجہ ہے۔ زیادہ شوگر کے ساتھ قے، شدید غنودگی، گہری یا تیز سانس اور پانی کی شدید کمی ہو تو فوراً ایمرجنسی جائیں۔ حمل میں ذیابیطس کی تشخیص اور علامات والی زیادہ شوگر کے علاج کے لیے الگ طبی رہنمائی ضروری ہے۔ [1]
ڈاکٹر کن باتوں کی جانچ کرتا ہے
خون کی کمی، خون کے سرخ خلیوں کی عمر بدلنے والی بیماریوں، ہیموگلوبن کی بعض موروثی اقسام، حالیہ خون لگنے یا حمل میں HbA1c کا نتیجہ گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ اگر یہ نتیجہ اور خون میں براہِ راست ناپی گئی شوگر ایک دوسرے سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو ڈاکٹر روزے کی حالت میں شوگر یا 75 گرام او جی ٹی ٹی ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔ واضح شدید ہائپرگلیسیمیا نہ ہونے پر ذیابیطس کی تشخیص عموماً دوبارہ تصدیق مانگتی ہے۔ [1]
روزمرہ میں کیا کریں
- اگر وزن زیادہ ہے تو تقریباً 5–7 فیصد وزن کم کرنے کا ہدف رکھیں۔
- ہفتے میں کم از کم 150 منٹ ورزش کریں۔
- میٹھے مشروبات کم کریں؛ سبزیاں بڑھائیں۔
اپنے ڈاکٹر سے یہ سوال پوچھیں
- میرا HbA1c 6.0 فیصد ہے — کیا مجھے ذیابیطس ہے؟
- ٹیسٹ کب دہراؤں؟
- کیا دوا کے بغیر کم ہو سکتا ہے؟
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
نہیں۔ 6.0 فیصد پری ذیابیطس کی حد (5.7–6.4 فیصد) میں ہے۔
جی ہاں — خون کی کمی، حمل، یا ہیموگلوبن کی اقسام اسے غیر معتبر بنا سکتی ہیں۔
معتبر حوالہ جات
ADA: Diagnosis and Classification, Standards of Care 2026
اس مضمون کا بنیادی حوالہ۔
- ADA: Diagnosis and Classification, Standards of Care 2026
- ADA: Diabetes Prevention, Standards of Care 2026
- Diabetes Prevention Program trial, NEJM 2002
- Zhang et al. 2010, systematic review, DOI 10.2337/dc09-1939
صرف وہ تحریریں ڈاکٹر عمر کے طبی جائزے سے گزری ہیں جن پر Reviewed ✓ اور تاریخ درج ہے۔
اس مضمون کا جائزہ کیسے لیا گیا
- تحریر: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس — اکتوبر 2026
- طبی جائزہ: ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ایم بی بی ایس نے مکمل کیا — اکتوبر 2026۔
- کوئی غلطی نظر آئی؟ ای میل پر ڈاکٹر عمر کو بتائیں
متعلقہ: اپنا نمبر سمجھنے کے لیے HbA1c رزلٹ ایکسپلینر استعمال کریں۔